لکھنؤ، 22/جنوری(ایس او نیوز/آئی این ایس انڈیا)اتر پردیش کے گورنر رام نائک نے آج ریاست کی سابقہ حکومت کے وزراء کے خلاف لوک آیکت کی جانچ کو لے کر مبینہ غیرفعالیت کا مظاہرہ کرنے کے لیے ریاست کی اکھلیش یادو حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا۔نائک نے پریس کانفرنس میں گزشتہ چھ ماہ کی اپنی مدت کار کی رپورٹ پیش کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت نے لوک آیکت اور ذیلی لوک آیکت قانون کی دفعہ 12:7کے تحت بھیجی گئی 53خصوصی رپورٹوں میں سے صرف دو پر وضاحت نامہ دستیاب کرایا ہے، باقی 51کے بارے میں نہ تو وضاحت نامہ حاصل ہوا اور نہ ہی ریاستی اسمبلی کے سامنے پیش کئے جانے کی اطلاع ملی۔انہوں نے کہا کہ لوک آیکت کی خصوصی رپورٹوں میں پیشرو مایاوتی حکومت کے دور میں بدعنوانی کے ملزم وزراء اودھ پال سنگھ یادو، رام ویر اپادھیائے، بادشاہ سنگھ، رام اچل راج بھر، راجیش ترپاٹھی، ایودھیا پرساد پال، نسیم الدین صدیقی، رتن لال اہیروار اور سوامی پرساد موریہ کے ساتھ ساتھ مڑیاہوں سیٹ سے سابق ممبر اسمبلی کرشن کمار سچان، تین میونسپل کارپوریشن،میونسپل پنچایت کے چیئرمین اور40افسران کے نام شامل ہیں۔گورنر نے حکومت کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا کہ گزشتہ سال متھرا کے جواہرباغ سانحہ کے بعد انہوں نے وزیر اعلی اکھلیش یادو کو پوری ریاست میں سرکاری زمینوں پر ہوئے قبضوں، غیر قانونی تجاوزات اور اس سے ریاستی حکومت کو ہوئے نقصان کے بارے میں قرطاس ابیض جاری کرنے کے لیے مکتوب لکھاتھااوربات بھی کی تھی۔لیکن ابھی تک اس پر کچھ نہیں ہوا۔نائک نے کہا کہ 22/جولائی 2014کو ریاست کے گورنر کے عہدے کاحلف لینے کے بعد سے اب تک ان کی ہمیشہ یہی کوشش رہی ہے کہ گورنر ہاؤس آنے والے اور ان سے ملاقات کرنے والے ہرشخص کامسئلہ حل ہو۔گورنر نے بتایا کہ گذشتہ چھ ماہ کے دوران انہوں نے 21بلوں کی منظوری دی ہے۔انہوں نے ریاست کے آئندہ اسمبلی انتخابات کے پیش نظر عوام سے زیادہ سے زیادہ تعداد میں ووٹ ڈالنے کی اپیل بھی کی۔